8 اپریل 2017 - 13:54
سلامتی کونسل میں روس کا موقف، ماسکو بشار الاسد کی حمایت جاری رکھے گا، شام پر امریکی میزائل حملے جارحیت ہیں

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی خبر میں بتایا کہ اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر ولادی میر سفکرونوف نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کے دوران شامی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو شروع سے ہی کھلے عام شام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ روسی نائب سفیر نے واضح کیا کہ ماسکو بشار الاسد کی حمایت جاری رکھے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ (یو این) میں روس کے نائب سفیر ولادی میر سفکرونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام میں کئے گئے میزائل حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جارحیت ہیں۔ امریکہ کی جانب سے شام کے الشعیرات ایئربیس پر 59 ٹام ہاک کروز کے 60 میزائل داغے گئے، جن میں کم سے کم 4 فوجی جاں بحق ہوگئے۔ امریکہ نے اس ایئربیس کو یہ بہانہ بنا کر نشانہ بنایا کہ یہاں سے 4 اپریل کو شامی شہریوں پر مہلک گیس سے حملہ کیا گیا تھا۔ امریکی میزائل حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جس میں روسی نائب سفیر نے امریکہ کے اقدامات کو جارحیت قرار دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی خبر میں بتایا کہ اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر ولادی میر سفکرونوف نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کے دوران شامی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو شروع سے ہی کھلے عام شام کی حمایت کرتا آیا ہے۔ روسی نائب سفیر نے واضح کیا کہ ماسکو بشار الاسد کی حمایت جاری رکھے گا۔ ولادی میر سفکرونوف نے کہا کہ شام پر امریکی میزائل حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے حملوں کی تیاری پہلے سے کر رکھی تھی۔ انہوں نے امریکی میزائل حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور جارحیت قرار دیا۔

.......

/169